مہر خبررساں ایجنسی بین الاقوامی ڈیسک؛ حزب اللہ لبنان کی جانب سے امریکہ اور صہیونی حکومت کے حمایت یافتہ مجوزہ معاہدے کی مخالفت محض ایک سیاسی موقف نہیں بلکہ تاریخی تجربات، موجودہ زمینی حقائق اور سکیورٹی خدشات پر مبنی حکمت عملی قرار دی جا رہی ہے۔
حزب اللہ کا مؤقف ہے کہ لبنان پر اسرائیل کی طویل جارحیت، تین تباہ کن جنگوں، مسلسل قبضے اور شہریوں کے خلاف کارروائیوں نے کسی بھی امریکی یا صہیونی ضمانت پر اعتماد کی گنجائش ختم کر دی ہے۔ اسی لیے مقاومت کسی ایسے معاہدے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جو قومی خودمختاری یا دفاعی صلاحیتوں کو متاثر کرے۔ لبنان کی فوج کی محدود دفاعی استعداد کے باعث مزاحمتی قوت ہی بالخصوص جنوبی لبنان کے عوام کی سلامتی کی ضامن رہی ہے، لہذا مقاومت کا اسلحہ قومی دفاع کا بنیادی ستون ہے۔
حزب اللہ موجودہ مجوزہ معاہدے کو ایک اسٹریٹجک جال قرار دیتی ہے، جس کا اصل مقصد مقاومت کو غیر مسلح کرنا اور اسرائیل کے خلاف قائم طاقت کے توازن کو ختم کرنا ہے۔ سیاسی اور آئینی پہلو سے بھی حزب اللہ اس معاہدے پر اعتراض کرتی ہے۔ تنظیم کے مطابق، براہ راست مذاکرات یا ایسے کسی سمجھوتے کی آئینی و قانونی حیثیت مشکوک ہے اور اس سے لبنان کے اندر مزید سیاسی تقسیم پیدا ہو سکتی ہے۔ حزب اللہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ مجوزہ شرائط کو قبول کرنا نہ صرف اسرائیلی دباؤ کے سامنے جھکنے کے مترادف ہوگا بلکہ اس سے داخلی سطح پر مقاومت تنہا ہو جائے گی اور دریائے لیتانی کے جنوب میں صہیونی قبضے کے تسلسل کا راستہ بھی ہموار ہو سکتا ہے۔
ان تمام تاریخی، سیاسی اور سکیورٹی عوامل کی روشنی میں حزب اللہ واشنگٹن کے مجوزہ معاہدے کو لبنان کے قومی مفادات اور مزاحمتی حکمت عملی کے خلاف سمجھتا ہے۔
غیر مسلح ہونا، حزب اللہ کے لیے سرخ لکیر کیوں؟
حزب اللہ لبنان اس مجوزہ معاہدے کی بنیادی مخالفت اس بنیاد پر کرتی ہے کہ امریکہ اور صہیونی حکومت مقاومت کو غیر مسلح کرنے کو ایک لازمی پیشگی شرط کے طور پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ حزب اللہ کے نزدیک، لبنان کی فوج کی فضائی، بحری اور زمینی دفاعی صلاحیتوں کی کمزوری کے پیش نظر مقاومت کا اسلحہ محض ایک عسکری ہتھیار نہیں بلکہ دفاعی توازن کا بنیادی ستون اور خصوصاً جنوبی لبنان کے شیعہ عوام کی سلامتی کی واحد ضمانت ہے۔
تین تباہ کن جنگوں، ماضی کے اسرائیلی قبضے اور گزشتہ چار دہائیوں کے دوران ہونے والے جرائم کے تلخ تجربات نے اسرائیل کی جانب سے انخلا اور لبنان کی خودمختاری کے احترام سے متعلق ہر قسم کی یقین دہانی پر اعتماد کو ختم کر دیا ہے۔ اگر مقاومت کو غیر مسلح کر دیا گیا تو لبنان کی دفاعی ڈھال ختم ہو جائے گی اور گریٹر اسرائیل کے توسیع پسندانہ منصوبے کے لیے، جو لبنان سے شروع ہوتا ہے، راہ ہموار ہوجائے گی۔
لبنان کی سلامتی میں مقاومت کا کلیدی کردار
لبنان اور اسرائیل کے درمیان ابتدائی معاہدے کی مخالفت کی ایک اور بڑی وجہ، حزب اللہ کے مطابق، اس کے سیاسی، سلامتی اور قانونی مضمرات ہیں۔ حزب اللہ کے رہنما حسن فضل اللہ کا کہنا ہے کہ دشمن کے ساتھ براہ راست مذاکرات لبنان کے آئین کی شق 52 کی خلاف ورزی ہیں، جبکہ موجودہ حکومت آئینی اور قومی جواز سے محروم ہونے کے باعث اسرائیل کے ساتھ دشمنی کے خاتمے یا اسے بلامعاوضہ رعایتیں دینے کا اختیار نہیں رکھتی۔
حزب اللہ کے مطابق یہ منصوبہ اسلام آباد معاہدہ ناکام بنانے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف لبنان کی قومی خودمختاری کو شدید نقصان پہنچائے گا بلکہ داخلی اختلافات کو گہرا کرنے اور حتی کہ خانہ جنگی کے خطرات کو بھی بڑھا سکتا ہے۔
مزید برآں، حزب اللہ کے نزدیک اس معاہدے میں ایسی شرائط شامل ہیں جن کے تحت حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے تک جنوبی لبنان پر اسرائیلی قبضہ برقرار رکھا جائے گا اور بے گھر شہریوں کو اپنے گھروں میں واپسی کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی۔ اسی لیے مقاومت اسے ابتدا ہی سے ایک ناکام معاہدہ اور دشمن کے لیے ایک خصوصی تحفہ قرار دیتی ہے، جسے وہ اپنی زمینی طاقت کے بل پر کبھی نافذ نہیں ہونے دے گی۔
لبنان کی علاقائی سالمیت اور جنوبی علاقوں کا تحفظ
حزب اللہ کے مطابق یہ منصوبہ ایک اسٹریٹجک جال ہے، جس میں بعض لبنانی حکومتی شخصیات بیرونی دباؤ کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر مقاومت کو داخلی محاذ پر تنہا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ ایسا منصوبہ، جو بالواسطہ طور پر اسرائیل کو یہ حق دیتا ہو کہ وہ حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے تک دریائے لیتانی کے جنوب پر اپنا قبضہ برقرار رکھے اور اس علاقے کو ایک تباہ شدہ خطہ میں تبدیل کرتا رہے، مقاومت کے قومی فریضے اور بنیادی اصولوں سے مکمل طور پر متصادم ہے۔
حزب اللہ کے مطابق صہیونی حکومت کا عسکری نظریہ مقبوضہ علاقوں کو حفاظتی بفر زون کے طور پر برقرار رکھنے پر مبنی ہے اور اسرائیل کے ان علاقوں سے دستبردار ہونے کے کوئی آثار نہیں۔ اسی لیے تنظیم ایسے معاہدے کو قبول کرنا اپنے عوامی اور سماجی حلقے کو بے سہارا چھوڑنے کے مترادف سمجھتی ہے۔ اس بنا پر حزب اللہ تصادم پر مبنی حکمت عملی کو ترجیح دیتی ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ سلامتی سے متعلق اخراجات میں بتدریج اضافہ آخرکار قابض قوتوں کو پسپائی پر مجبور کر دے گا۔
حاصل کلام
حزب اللہ اور مقاومتی محاذ کی جانب سے مسلط کردہ منصوبے کی دوٹوک مخالفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مقاومتی محاذ خود کو خطے کی جغرافیائی و سیاسی معادلات میں ایک مؤثر اور فیصلہ کن قوت سمجھتا ہے۔ اس کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ عسکری طاقت اور دفاعی ڈیٹرنس کو توسیع پسندانہ منصوبوں کے مقابلے میں ناقابل مذاکرات دفاعی ڈھال تصور کرتا ہے۔
یہ عسکری حکمت عملی مقاومت کے عوامی و سماجی حلقے سے گہری وابستگی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، اسی لیے حزب اللہ کسی ایسے فارمولے کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں جو اس کے حامیوں کی بے دخلی یا جنوبی لبنان کے رہائشی علاقوں کو بفر زون یا تباہ شدہ علاقہ میں تبدیل کرنے کا باعث بنے۔ مزید برآں، دشمن کی عسکری حکمت عملی کے بارے میں آگاہی اور اسٹریٹجک بصیرت کے باعث مقاومتی محاذ بین الاقوامی ضمانتوں یا تفرقہ انگیز معاہدوں پر انحصار کرنے کے بجائے تدریجی تھکاوٹ اور فعال مزاحمت کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جس کا مقصد سلامتی اور عسکری اخراجات میں مسلسل اضافہ کرکے قابض افواج کے انخلا کو سفارتی وعدے کے بجائے ایک عملی اور ناگزیر حقیقت میں تبدیل کرنا ہے۔
آپ کا تبصرہ